ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گؤکشی کی آڑ میں ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میں نہیں رنگنا چاہیے:درگاہ دیوان سیدزین العابدین

گؤکشی کی آڑ میں ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میں نہیں رنگنا چاہیے:درگاہ دیوان سیدزین العابدین

Thu, 28 Jul 2016 18:39:48    S.O. News Service

مسلمانوں کو گؤ رکشا میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے 

جے پور، 28؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی اولاد اور اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشیں دیوان سید زین العابدین علی خان نے کہا کہ گائے ماضی کے دنوں سے ہندوؤں کے عقیدے کی علامت رہی ہے، اس لیے مسلمانوں کو گائے کے تحفظ میں اپنا مثبت کردار ادا کرکے مثال قائم کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گؤ کے گوشت کی آڑ میں ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے والوں کو احتیاط برتنا چاہیے جس سے دونوں فرقوں کے درمیان اعتماد کے جذبات قائم ہوں ۔درگاہ دیوان نے آج جاری بیان میں اس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر گائے کے گوشت کے معاملے پر ملک کا ماحول بگاڑکر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسائل ملک میں صدیوں سے باہمی میل جول سے رہ رہے دو نوں فرقوں کے درمیان خلیج کے طور پر اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔اگر ہندو مسلمانوں سے ڈرے گا اور مسلمان ہندو ؤں سے خوفزدہ ہوگا تو ملک صرف اور صرف تباہی کی طرف جائے گا۔خان نے کہا کہ تقسیم وطن کے زمانے میں گائے کو فرقہ پرستی سے جوڑ کر دیکھا گیا اور گائے کو لے کر فرقہ وارانہ پولرائزیشن کرانے کی کوشش مسلم لیگ نے کی تھی، اس لیے فساد کرانے کے لیے گائے کے گوشت کو مندروں میں پھینکنا، گائے کو ذبح کرنا، یہ ایک طریقہ تھا،لیکن کچھ تنظیم آزاد ہندوستان میں مسلم لیگ کے نظریات اور مشن کو آگے بڑھاتے ہے گؤ کشی اور گؤ کے گوشت کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازعہ پیداکرنے کی کوشش میں لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گائے ہندوؤں کے عقیدے کی علامت رہی ہے، لیکن آج گائے کے گوشت کا یہ مسئلہ مذہب کا ایک نیا ہتھیار بن چکا ہے جس سے دنیا میں ہندوستان کی شبیہ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔


Share: